ریح ـــــ گیس ـــــ تبخیر ـــــ ہوا
ریح ـــــ گیس ـــــ تبخیر ـــــ ہوا
معدہ اور آنتوں میں پیدا ہونے والی ریح، تبخیر، گیس اور ہوا اگرچہ بظاہر ایک ہی کیفیت کے مختلف نام معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کے درمیان باریک فرق پایا جاتا ہے۔
"ریح"-------- طبِ مشرق میں ریح اُس ہوا یا نفخ کو کہا جاتا ہے جو غذا کے ناقص انہضام، معدہ کی کمزوری، رطوبت کی زیادتی یا بادی غذاؤں کے استعمال سے پیدا ہو کر پیٹ میں اپھارہ، گڑگڑاہٹ، درد اور بھاری پن پیدا کرے۔ یہی ریح بعض اوقات آنتوں سے نکل کر جسم کے دوسرے حصوں میں بھی اثر انداز ہوتی ہے اور اعصابی یا جوڑوں کے درد کا سبب بن جاتی ہے۔
“تبخیر” ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جس میں معدہ اور ہاضمہ کے دوران بخاراتی اثرات یا دھوئیں نما لطیف اجزاء پیدا ہوتے ہیں جو اوپر کی جانب چڑھ کر دماغ، سینہ اور حواس پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس کے باعث سر بھاری ہونا، متلی، چکر، دل کی گھبراہٹ، آنکھوں پر بوجھ اور زیادہ ڈکاریں جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس لئے تبخیر صرف گیس نہیں بلکہ ایک بخاراتی اور لطیف کیفیت بھی شمار ہوتی ہے۔
“گیس” ۔۔۔۔۔۔اُس ہوا کو کہا جاتا ہے جو معدہ اور آنتوں میں غذا کے ٹوٹنے، خمیر اُٹھنے یا جراثیمی عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس میں مختلف کیمیائی اجزاء شامل ہوتے ہیں، جن کے باعث پیٹ پھولنا، تناؤ، ڈکاریں اور ہوا خارج ہونے کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔
“ہوا”۔۔۔۔۔ ایک عام بول چال کا لفظ ہے جسے عوام عموماً انہی تمام کیفیات کیلئے استعمال کرتے ہیں، جیسے یہ کہنا کہ “پیٹ میں ہوا بھر گئی ہے”۔
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق ریح اور تبخیر کا تعلق زیادہ تر معدہ، جگر، اعصاب اور رطوبی کیفیتوں سے سمجھا جاتا ہے، خصوصاً جب ہضم کمزور ہو، معدہ سرد ہو یا غذا مناسب طور پر تحلیل نہ ہو رہی ہو۔
"علاج"
شعبہء ہائے طب سے تعلق اور لگن رکھنے والوں کیلیے معتدل مزاج اور ارزاں نسخہ درج جو بد اثرات سے مبراء۔اللّٰہ تعالیٰ کی رضاء اور صدقہ جاریہ اولین ترجیح ہے اور اللّٰہ پاک ہی بہترین اجر دینے والا ہے۔
"ھوالشافی"
سونف 1 تولہ
نوشادر ٹھیکری 1 تولہ
پودینہ 1 تولہ
اجوائن دیسی 1 تولہ
نر کچور 1/2 تولہ
نمک سیاہ 1/2 تولہ
خولنجاں 1 تولہ
سہاگہ بریاں 1/2 تولہ
ہلیلہ زرد 1 تولہ
( سب اجزاء کو مہین کرنے کے بعد یکجان کر لیں)
نوٹ:-
نسخے میں اشیاء کے اوزان ایک مطب یا طبیب کیلیے ہیں۔ جبکہ اپنی ضرورت کہ مطابق اوزان کی ترتیب کم و بیش کی جا سکتی ہے۔
فوائد:--
نظام انہضام کے جملہِ امراض ، بدہضمی، گیس، قبض، تبخیر، آنتوں اور معدے کے بخار، بلڈ لو غرض سوداوی خلط کے تمام امراض اور جسم میں صفراوی اجتماع سے ہونے والے امراض کیلیے یکساں مفید ہے۔ بلغمی مزاج کی زیادتی میں قبض اور متلی میں بھی مفید پایا گیا ہے
مقدار خوراک:-
بچوں کیلیے 1ماشہ بڑوں کیلیے 2 تا 4 ماشہ ہمراہ آب تازہ
اہم بات اور اہم راز۔
اگر اسی نسخہ کو مسلسل 40 سے 90 دن تک استعمال کیا جائے تو ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام جڑ سے ختم اور جگر مقوی ہو کر مکمل کام شروع کر دیتا ہے
Comments
Post a Comment