ٹرائی گلیسرائیڈTriglacride
ٹرائی گلیسرائیڈ
Triglacride
انسان کے خون میں درج زیل لپڈز پائے جاتے ہیں
1 ٹوٹل لپڈز
انسانی جسم میں موجود چکنائیاں 1000 جبکہ ان کی مناسب ویلیو 700 تا 800 ہونی چاہیے
مطلب تقریباً %3 کولیسٹرول ریشو ہونی چاہیے
2کولیسٹرول
سادہ کولیسٹرول 200
یہ خون کو چلانے میں مدد دیتا ہے اگر اس کی ریشو نارمل رہے تو. اور اسکی ریشو تقریباً 165 تا 170 ہونی چاہیے
HDL50
اچھا کولیسٹرول
اگر یہ 60 یا 70 ہو تو قوت مدافعت کے مضبوط ہونے کی دلیل ہے ہارٹ اٹیک کے چانس ختم کرتا ہے خواہ ٹرائی گلیسرائیڈ زیادہ ہو اور اگر HDL کم ہو یعنی 40 یا 30 تو ہارٹ اٹیک کے چانس بہت زیادہ ہو جاتے ہیں اگرچہ ٹرائی گلیسرائیڈ بہت ہی کم ہو یعنی ہم کہ سکتے ہیں کے HDL قوت مدبرہ بدن کی ولیو ہے
ٹرائی گلیسرائید (50-150)
یہ مخاطی مادہ ہے جو قشری نبض میں موجود ہوتا ہے
ٹرائی گلیسرائیڈ تین چکنائیاں
تین طرح کے کولیسٹرول کا مجموعہ hdl+ldl+vldl
اب اس مجموعہ میں ldl اور vldl ٹرائی گلیسرائید کی بیس ہیں اگر یہ بیس (ldl+vldl) نارمل ریشو سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے ٹرائی گلیسرائیڈ مزید نہیں بڑھے گا چاہے ٹرائی گلیسرائیڈ کی کوئی بھی ویلیو ہو
اور اگر یہ بیس نارمل ویلیو سے زیادہ ہو تو ٹرائی گلیسرائیڈ کسی بھی وقت شوٹ کر جائے گا چاہے اس کی ویلیو نارمل رینج سے کتنی ہی کم کیوں نہ ہو اب آسان سی بات ہے کہ جسکا ٹرائی گلیسرائیڈ زیادہ اسکا خون گاڑھا ہے اورجسکاخون گاڑھا اس کا Bp ہائی
آج کل اس مرض کے بہت کیس آرہے ہیں خون میں موجود چکنائیوں یعنی لپڈز LDL VLDL اور HDL کا مجموعہ ٹرائی گلیسرائیڈ کہلاتا ہے
یہ تین شحمی ترشے کولیسٹرول کے ساتھ ملکر ٹرائی گلیسرائیڈ بناتے ہیں اور تونائی کا زخیرہ کرنے والے سالمے کہلاتے ہیں یہ حیوانی چربی اور نباتاتی روغنیات میں ہوتے ہیں پانی سے ہلکے اور پانی میں غیر حل پزیر ہیں عام درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع کی صورت پائے جاتے ہیں تب ان کو چربی کہا جاتا ہے یہ نشاستہ اور لحمیات سے دگنی توانائی کے حامل ہوتے ہیں آنتوں میں پہنچ کر لبلبہ کی رطوبت کی مدد سے کولیسٹرول اور شحمی ترشوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں ایک طویل عمل کے بعد قلب کے نذدیک بڑی نالیوں کے زریعے خون میں شامل ہوجاتے ہیں
ٹرائی گلیسرائیڈ کی علامات
بھوک بند ہونا
متلی۔ الٹی
گردن کندھوں اور ایڑی کے پٹھوں میں کچھاو
قبض
پیٹ کا شدید درد ہونا
سردرد
بلڈ پریشر ہائی ہونا
آنکھ کے اوپری پپوٹے میں سوجن اور ناک کی طرف پپوٹوں پر مسے بننا
پرپرا۔۔۔ جلد پر نیلے جامنی دھبے
پتے کی سوزش اور پتے کی پتھریاں
جگر پر چربی جمنا fatty liver
آنکھ کے ریٹینیا کے گرد سفیدی
طحال کا بڑھنا
زیر جلد چربی کی تہہ بننے کا عمل موروثی ٹرائی گلیسرائیڈ کے مریضوں میں دیکھا گیا ہے
خون میں ٹرائی گلیسرائیڈ کی زیادہ مقدار سے تھکے اور لوتھڑے یعنی CLOTS بنتے ہیں۔ اور شرائین کی سختی atherosclerosis پیدا ہوتا ہے
ٹرائی گلیسرائیڈ کی زیادتی پنکریاس یعنی لبلبہ کی سوزش کا باعث ہے۔ اس لیئے شوگر کے مریضوں میں اس کی مقدار بڑھی ہوئی ہوتی ہے
بلڈ شوگر کے مریضوں کا 95% ٹرائی گلیسرائیڈ بڑھا ہوا ہوتا ہے اگر ان کا ٹرائی گلیسرائیڈ کم کریں تو شوگر آٹو میٹیک کم ہوجاتی ہے ٹرائی گلیسرائیڈ کے مریض کو گردے کی پتھریوں کا بھی اندیشہ ہوتا ہے
ٹرائی گلیسرائیڈ کی زیادتی سے پاوں کے تلوے بھی جلتے ہیں مگر خیال رہے ٹیسٹ ضرور کروالیں کیونکہ پاوں کا جلنا سوزش جگر سے بھی ہوتا ہے
جس کا شخص کا ٹرائی گلیسرائیڈ نارمل رینج سے کم یعنی 90 سے بھی کم ہوجائے تو اس کے جوڑوں میں درد شروع ہوجاتا ہے ٹرائی گلیسرائیڈ جوڑوں کی لبریکیشن ہے یہ زیادہ ہو جائے تو لہسن مفید ہے مگر لہسن صرف کولیسٹرول کی زیادتی میں مفید نہیں ایلوپیتھک میں ٹرائی گلیسرائیڈ کی زیادتی کیلیئے دواء لوپرن ہے مگر یہ وقتی کام کرتی ہے اور عمر بھر مسلسل لینی پڑتی ہے
علاج بالنظریہ مفرد اعضاء اربعہ
سب سے پہلے مریض کی خوراک پر توجہ دیں اور چاول چکنائیاں وغیرہ بند کریں
اس کی ادویات گرم تر ہیں۔ مگر مریض کی برداشت کو جانچ کر درج زیل نسخہ جات میں سے تجویز کی جاتی ہیں
1 سی فور + چار جدید جس کے معدہ میں سوزش ہو
2 صرف سی فور۔۔۔۔ جس کا معدہ بالکل فٹ ہو
3 سی فور + تریاق قلب وہ مریض جس کا ٹرائی گلیسرائیڈ ایک اور دو نمبر ادویہ سے کم ہوتا ہوا 300 پر آکے رک جائے اور مزید کم نہ ہورہا ہو
4 ایچ 67 + چار جدید وہ مریض جو پہلی تین ادویہ برداشت کرنے کے قابل نہ ہوں اور ان می آنتوں میں سوزش ہو یعنی پہلے سے گرم خشک مزاج کے ہوں
5 ایم سی + چار جدید۔ وہ مریض جسے ہیپاٹائٹس بھی ہو
نوٹ
اتنے خطرات کے باوجود ٹرائی گلیسرائیڈ جسم کی ضرورت بھی ہے اور اسے نارمل رینج میں رکھنا چاہیئے اگر کسی کا ٹرائی گلیسرائیڈ لیول 90 سے کم ہو تو جوڑوں میں درد شروع ہوجاتا ہے ایسے مریض کو نیم گرم دودھ سے ٹی5 دو گولیاں دن میں تین بار دیتے رہیں
غذا گرم تر سے تر گرم
#ٹراٸیگلیسراٸیڈ
Comments
Post a Comment