۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جدوار ایک عظیم بوٹی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ جدوار ایک عظیم بوٹی ۔۔۔۔۔۔
مختلف زبانوں میں اس کے نام بھی مختلف ھیں جیسے
عربی۔۔۔جدوار یا ابثلہ
یونانی ۔۔۔۔ساطریوس
ھندی ۔۔۔نر بسی
فارسی۔۔۔ ماہ پروین
پشتو۔۔۔زھر بوٹی
نیپالی۔۔۔نیلو بکھ
[ ] انگریزی ۔۔۔ کارکومازیڈوآریا CARCUMA ZEDOARIA
جدوار کی پہچان کیلئے کچھ مشکلات ھین ان کی وضاحت بہت ضروری ھے انشاءاللہ ہر ایک بات کی وضاحت ھو گی
شکل میں تو دوتا چار فٹ تک پودا ھوتاھے ایک شاخ یاڈنڈی نکلتی ھے ھرایک ڈنڈی کے اوپر صرف ایک پھول لگتا ھے نیلا یا خاکستری رنگ کا پھول ھوگا پنکھڑیاں پانچ ھوتی ھیں مختلف علاقوں میں تھوڑی بہت شکل شباھت یارنگ میں تھوڑا بہت فرق آتاھے
جیسے کوھستانی جدوار باھرسے سیاھی مائل اور توڑنےسے اندرسے بنفشی مائل سرخ ھوگی یادرکھیں یہی جدوار سب سے بہترین سمجھی جاتی ھے اسے ھی جدوار خطائی کہاجاتاھے
دوسرے نمبر پہ تبت سے آنے والی جدوار ھے یہ اندر باھرسے سیاہ رنگ کی ھوتی ھے یہ پہلی قسم سے کم تر درجہ کی ھے
تیسرے نمبر پہ جدوار نیپالی ھے یہ بھی اندر باھرسے سیاہ رنگ کی ھوتی ھے یہ کلکتہ کی مارکیٹ میں فروخت ھوتی ھے وھاں اسے زدردار کےنام سے جانا جاتاھے اس کا سفوف کرنے پہ اس میں نیلے رنگ کی جھلک نظرآتی ھے چوتھی قسم انڈیا کے دکن کے علاقہ کے پہاڑوں سے آتی ھےیہ بھورے رنگ کی سیاھی مائل ھوتی ھے یہ بہت ھی کم تر درجہ کی ھے یادرھے یہ زیتون کے پھل جیسی مشابہت رکھتی ھے
پانچویں قسم جدوار انڈی ھے یہ انڈیا پاکستان کے ھر پوٹھوھاری علاقہ میں ھوتی ھے اس کا پودا ایک بالشت کے برابر ںوتاھے اس کی پہچان کرنا آسان کام نہیں ھے یہ ذائقہ میں تلخ ویسے نہایت نرم اور رنگ میں سیاہ ھی ںوتی ھے اسے بعض علاقوں میں اثبہ کے نام سے جانا جاتاھے دراصل یہ مضمون مین نے اسی ایک قسم کی پہچان کے لیے لکھاھے کیونکہ یہ جدوار کی قسم وھاں پیدا ھوتی ھے جہان پچھناک یعنی میٹھاتیلہ جیسی زھریلی نباتات پیدا ھوتی ھے اس کے پودے اور میٹھا تیلیہ کے پودے میں پہچان کرنا بہت مشکل ھوتاھے یہ قسم پچھناک کے پودوں کے ساتھ میں نے کشمیر میں اور کھیوڑا پنڈ دادنخان کے علاقہ میں دیکھی ھے یادرکھیں میٹھا تیلیہ ایک خطرناک زھر ھے جبکہ جدوار اسی خطرناک زھر کا تریاق ھے
بیش یعنی میٹھا تیلیہ یعنی پچھناک یا اسے مہری بھی کہتے ھیں اسکا پودا جدوار کے پودے سے چھوٹا ھوتا ھے دوسرے نمبر پہ جدوار سیاھی مائل جبکہ تیلیہ کارنگ سرخی مائل ھوتاھے
اگر تیلیہ کوتراش کر زبان پہ رکھاجائےتوزبان پہ سوزش اور خدر معلوم ھوگا یعنی جیسے سن ھورھی ھے جبکہ اس کے اثرات فوری زائل کرنے کے لیے جدوار کوچبائیں توفوری طور پہ سن پن اور سوزش زبان ٹھیک ںوجائے گی بلکہ باقی زھریلے اثرات بھی جاتے رھتے ھیں
بعض لالچی قسم کے پنساری جدوار کی کمزور نسل کو رنگ کرکے اعلی کوالٹی کی بناکر بازار میں فروخت کرتےھیں اگر جدوار کوپانی میں بھگو دیا جائے تو اس کارنگ اتر جاتاھے پھر بیکار قسم کی بھورے رنگ کی اندرسے نکل آتی ھے اگر رنگ نہیں اترتا تو اعلی نسل کی ھے خیر جدوار کو توڑ کربھی پہچان کی جاسکتی ھے اگر اندر باھر ایک ھی رنگ نظر آ ئے تو بہترین قسم ھے
یہان ایک بات اور بھی یاد کرلیں جدوار ذائقہ میں کڑوی ھوتی ھے جبکہ میٹھاتیلہ ذائقہ میں میٹھا ھوتاھے
جدوار مزاج کے اعتبار سے عضلاتی اعصابی ھے
اسے تریاق سموم سمجھا جاتا ھے لیکن یہ سب زھروں کا تریاق نہیں ھے بلکہ صرف اعصابی زھروں کاتریاق ھے جیسے میٹھا تیلیہ ھے
اعصابی ورم یا درد ھوں انکےلیے بہت ھی شفابخش ھے اس کی مقدار خوراک نصف گرام تا ایک گرام تک ھے
بہق برص چھائیاں اور چہرے پہ بدنما داغ دور کرنے کے لیے اعلی ترین دواھے
باقی نزلہ زکام مرگی اعصابی فالج استر خا خدر بچون کے دماغی امراض جیسے ام الصبیان میں بہت ھی مفید ھے درد جگر ھو ادرد گردہ بلکہ سوزاک اور قطرہ قطرہ پیشاب یعنی تقطیر البول کےلیے بھی بہت اعلی ترین دوا ھے یادرھے کچھ حکماء اسے صرف قوت باہ کا خزانہ سمجھتے ہیں اس لیے بعض معجونات جوکہ مقوی باہ ھیں اور بعض گولیوں میں اسے شامل کیاجاتاھے یہ بات درست ھے کہ جدوار مقوی باہ ھے اور مقوی اعضائے رئیسہ بھی ھے لیکن اسے مکمل متبرک بناکر پیش کرنا یاصرف مہنگی ھی ادویات میں صرف شامل کرنا درست بات نہیں ھے اس کے باقی سب فائدے بھی اٹھانا چاھیے یعنی ان امراض پہ اس کا استعمال کرنا زیادہ مناسب ھے جن امراض میں یہ قوت باہ سے بھی بڑھ کر فائدے مند ھے
آئیے پہلے میں آپ کو مشہور معروف قرابا دینی نسخہ جوکہ حب جدوار کے نام سے مشہور ھے پہلے وہ لکھتے ھیں
نسخہ حب جدوار۔۔ اجوائن خراسانی 5گرام
بادرنجبویہ 7گرام
بنسلوچن 5گرام
بہمن سرخ 7گرام
بہمن سفید 7گرام
بیخ لفاح 10گرام
تخم خرفہ 10گرام
جاوتری 7گرام
جدوار 7گرام
جائفل 5گرام
گوندکتیرہ 5گرام
گوند کیکر 5گرام
مصری کالپی 15گرام
مغز بادام 10گرام
مغز چلغوزہ 10گرام
افیون 21گرام
زعفران 3گرام
روغن بلسان 15گرام
ورق نقرہ حسب ضرورت
اب تمام دوائیں پیس کر حب بقدر نخودی بنالیں اور ورق گولیاں کے اوپر معروف طریقہ سے چڑھا دیں
اب فوائد میں مقوی باہ جریان اور رقت منی کےلیے بہت ھی اعلی ھیں حد درجہ کی ممسک ھیں بلغمی کھانسی اور دائمی نزلہ زکام کے لیے اعلی ترین دوا ھے ان گولیوں کی ایک صفت یہ بھی ھے کہ افیون کی عادت چھوٹ جاتی ھے
اب تھوڑی بحث بھی ھوجائے
پہلی بات اب افیون ملنا نہایت ھی مشکل کام ھے دوسری بات روغن بلسان اصل ملنا نہایت مشکل اور مہنگا ھے میں خود سعودی عرب سے تسلی سے روغن بلسان لایا تھا لیکن یادرکھیں وھاں بھی انسان ھی رھتے ھیں اور آپ کو خالص روغن بلسان تب ھی ملے گا جب آپ اسے اچھی طرح جانتے ھوں ورنہ نقل ملے گا
خیر باقی بحث کی ضرورت نہیں ھے میں اس دوا کو بناتا ھی نہیں ھوں
اب جو دوا میں بناتا ھوں وہ سمجھ لیں
اسطخدوس ۔۔ جدوار خطائی ۔۔۔ بادرنجبویہ ۔۔۔ عود صلیب ۔۔۔
تمام دوائیں پیس کر بڑوں کے لیے ھزار ملی گرام جبکہ بچوں کے لیے آپ 125ملی گرام سے لے کر 250ملی گرام کیپسول بھر لیں حسب عمر دیں
اب فوائد سمجھ لیں
دماغ کاتنقیہ کرنے کے لیے اعلی ترین دوا ھے
دماغی مضروب ریشوں کی تعمیر کرکے درد روکتی ھے
ضعف دماغ کے لیے اعلی ترین دوا ھے
جمے نزلہ زکام بلکہ دماغ میں جمے پیدا شدہ کلاٹ تک کونکال باھر پھینکے گی دماغ کے اعصابی پردوں میں پیدا شدہ ورم کی وجہ سے ھونے والی مرض مرگی کےلئے اعلی ھےپردوں کا ورم اتارتی ھے
ایسے چکر جن میں نیند کاغلبہ بلکہ جو کان کے پردوں میں سوزش کی وجہ سے آتے ھیں ان کےلیے مفید ترین دوا ھے
بعض لوگ چلتے وقت محسوس کرتے ھیں کہ جیسے گرنے لگے ھیں بعض کو ایسے لگتا ھے جیسے کنویں میں گررھےھیں ان سب علامات میں اعلی ترین دوا ھے
بلکہ آپ ھر دماغی مرض میں اسے استعمال کریں لیکن یہ بھی یادرکھیں اس دوا کا مزاج عضلاتی اعصابی ھے یہ مقوی قلب بھی دوا ھے اب ضعف قلب کے باعث قوت باہ کی کمی ھوجائے تو نہایت ھی موثر دوا رھے گی
دوستو آپ بھی یہی نسخہ بنایا کریں انشاء اللہ رزلٹ بہت ھی شاندار ھوگا جدوار خطائی تھوڑی مہنگی ضرور ھے لیکن دوا بنانا آسان ھے بلکہ نشہ آور اجزاء سے بھی پاک ھونے کے باوجود افیون کی عادت چھوٹ جاتی ھے الحمدللہ
اسی کےساتھ اجازت چاھوں گا محمود بھٹہ گروپ مطب کامل
Comments
Post a Comment